ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ پسند کی شادی ہربالغ کا بنیادی حق

کرناٹک ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ پسند کی شادی ہربالغ کا بنیادی حق

Thu, 03 Dec 2020 11:40:08    S.O. News Service

بنگلورو،3؍دسمبر(ایس او  نیوز)کرناٹک ہائی کورٹ نے حکومت کرناٹک کی طرف سے لو جہاد کے متعلق قانون لانے کی تیاریوں کے درمیان چہارشنبہ کے روز ایک زبردست جھٹکا دیا اور کہا کہ ہندوستان کے آئین کے مطابق کسی بھی مرد و عورت جس کی شادی کی عمر ہو چکی ہے، اسے یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ اپنی پسند کے شریک حیات کا بلا لحاظ مذہب، رنگ و نسل انتخاب کر یں -

حکومت کی طرف سے متنازعہ قانون لانے کی تیاریوں کے درمیان ہائی کورٹ کی طرف سے آنے والا یہ تبصرہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے-عدالت نے یہ فیصلہ واجد خان نامی ایک عرضی گزار کی طرف سے ان کی معشوق رمیاکوجنودیا سانتونا کیندرا نامی ادارے میں مقید رکھے جانے کے سلسلہ میں ایک ہیبئس کارپس عرضی داخل کی تھی اور عدالت سے درخواست کی تھی کہ رمیا کو آزاد کروایا جائے - اس عرضی کے بعد پولیس نے رمیا کو چہارشنبہ کے روز عدالت میں حاضر کیا اور عدالت میں سماعت کے دوران رمیا نے اس کو اپنے پسند کے معشوق کے ساتھ شادی رچانے کے اپنے حق کا دعویٰ کیا، جس کو عدالت نے اس بنیاد پر تسلیم کیا کہ دونوں چونکہ بالغ ہیں، اس لئے انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنی پسند کا شریک حیات منتخب کریں - ان کے اس انتخاب کو مسترد کرنے کا کسی کو اختیار نہیں اور اگر کسی نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو یہ ان کی حق تلفی مانی جائے گی- رمیا نے بتایا کہ عرضی گزار کی ماں کو واجد سے اس کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس کے والدین شادی کی اجازت نہیں دے رہے ہیں -

عدالت نے تبصرہ کیا کہ سافٹ ویر انجینئر کے طور پر کام کرنے والی رمیا کو یہ مکمل اختیار ہے کہ اپنی شادی کے بارے میں فیصلہ کرے - عدالت نے اس عرضی کو نپٹاتے ہوئے مہیلا دکشتانامی تنظیم کو ہدایت دی کہ رمیا کو فوری طور پر آزاد کیا جائے-


Share: